دیکھو ہم نے چاند ستارہ لکھا ہے
لیکن تم کو سب سے پیارا لکھا ہے
میری جاں لینے کو لوگ آ جاتے ہیں
جب بھی تم کو جان سے پیارا لکھا ہے
ڈوبا ہے جو ایک منافع ،تُو ہی تھا
خود کو تیرے بعد خسارہ لکھا ہے
تم تو مجھ سے آدھا ملنے آئے تھے
میں نے پھر بھی تم کو سارا لکھا ہے
خط میں بھی ہم اور بھلا اب کیا لکھتے
ہم نے خود کو صرف تمہارا لکھا ہے
جس کے دم سے زینؔ اداسی قائم ہے
میں نے اس کو ایک سہارا لکھا ہے
Dekho hum ne chaand sitara likha hai
Lekin tum ko sab se pyara likha hai
Meri jaan lene ko log aa jaate hain
Jab bhi tum ko jaan se pyara likha hai
Dooba hai jo ek munaafa, tu hi tha
Khud ko tere baad khasara likha hai
Tum to mujh se aadha milne aaye the
Main ne phir bhi tum ko sara likha hai
Khat mein bhi hum aur bhala ab kya likhte
Hum ne khud ko sirf tumhara likha hai
Jis ke dam se Zain udaasi qayam hai
Main ne us ko ek sahara likha hai
زین شکیل 23 فروری 1992 کو جلالپور جٹاں، گجرات میں پیدا ہوئے۔ تعلیم اور پیشے کے اعتبار سے وہ سافٹ وئیر انجینیئر ہیں، لیکن ان کا دل ہمیشہ اردو اور پن...
مکمل تعارف پڑھیں