دل کی کوئی بھی بات بتایا نہ کر مجھے
میں نے کہا بھی تھا کہ ستایا نہ کر مجھے
ڈرتا ہوں میری لو سے ترا گھر نہ جل اٹھے
شب میں دیا جلا کے بلایا نہ کر مجھے
میں خود بھی دیکھتا ہوں اداسی کے خال و خد
قصے اداسیوں کے سنایا نہ کر مجھے
پھولوں نے مستعار لیا تھا مرا بدن
پھولوں کی نازکی سے چرایا نہ کر مجھے
خود آپ اپنے شوق سے بکھرا ہوں دشت میں
چن چن کے میری خاک، اٹھایا نہ کر مجھے
میں خط نہیں کہ آگ مٹا دےوجودِمَن
ٹکڑوں میں چاہے بانٹ، جلایا نہ کر مجھے
میں گیت تو نہیں ہوں مجھے بھول بھال جا
اپنے حسیں لبوں پہ سجایا نہ کر مجھے
زین شکیل