زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

درد آزاد ہونے والا ہے

درد آزاد ہونے والا ہے
ہجر آباد ہونے والا ہے
اس سے کہہ دو ذرا ٹھہر جائے
وہ مجھے یاد ہونے والا ہے
چھوڑ کر دور جا رہے ہو تم
کوئی برباد ہونے والا ہے
زلف اس کی سنورنے والی ہے
قابلِ داد ہونے والا ہے
روح میری ادھڑنے والی ہے
زخم ایجاد ہونے والا ہے
لگ رہا ہے مجھے کہ وہ اِمشب
محوِ فریاد ہونے والا ہے

زین شکیل