زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

درد کو کر بحال ڈال دھمال

درد کو کر بحال ڈال دھمال
روح کا اندمال ڈال دھمال
یہ جو کانٹوں کی شال ہے مرے یار
اپنے کاندھوں پہ ڈال، ڈال دھمال
اب کبھی تو بھی ہو اتار غرور
خود سے
میں کو نکال ڈال دھمال
جسم کا بوجھ ڈھو لیا مری مان
کر کے اب انتقال ڈال دھمال
بے سُری زندگی میں کیا ہے سرور
تال سے جوڑ تال ڈال دھمال
حسرتِ زندگی کا ڈھونگ بھی جھوٹ
چھوڑ رنج و ملال ڈال دھمال
مست ہو، ہوش کو فریب ہی مان
رقص کر خاک ڈال، ڈال دھمال
سانس بھی لے تو اس طرح مرے یار
دم دما دم دھمال، ڈال دھمال

زین شکیل