زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

دشت و ویراں میں کہیں کٹیا بسائے ہوئے لوگ

دشت و ویراں میں کہیں کٹیا بسائے ہوئے لوگ
دیکھ کس حال میں رہتے ہیں ستائے ہوئے لوگ
بارشیں یوں بھی ہر اک زخم ہرا کرتی ہیں
یاد آتے ہیں نگاہوں سے بہائے ہوئے لوگ
منتظر اب یہاں خواہش ہے نہ میّت کوئی
اس قدر دیر سے لوٹے ہیں بلائے ہوئے لوگ
کیسے جائیں گے بھلا اب وہ تسلی کے بغیر
تیرے ملنے کو بڑی دور سے آئے ہوئے لوگ
خاک بس خاک میں ملنےکے لیے ہوتی ہے
ہم ہیں اس واسطے مٹی سے بنائے ہوئے لوگ
آنسوئوں کو تو بھرم بھی نہیں رکھنا آیا
میری آنکھوں سے نکل آئے چھپائے ہوئے لوگ
زین ہنس ہنس کے اسی بات کو رو دیتا ہوں
مجھ سے روٹھے ہوئے رہتے ہیں منائے ہوئے لوگ

زین شکیل