زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

دیا ہم بھی جلا لیتے، جو تم آتے

دیا ہم بھی جلا لیتے، جو تم آتے
ذرا سا مسکرا لیتے، جو تم آتے
کسی کو دیکھنے بالکل نہیں دیتے
کہیں خود میں چھپا لیتے، جو تم آتے
تو پھر اب کیا ہوا جو روشنی کم ہے
کوئی جگنو بلا لیتے، جو تم آتے
اگر صحرا مِرا گھر ہے تو پھر کیا ہے
گلی دل کی سجا لیتے، جو تم آتے
تمہیں ، تم بھی میسر ہو نہیں پاتے
تمہیں تم سے چرا لیتے ، جو تم آتے
ہمیں اس درد میں تسکین مل جائے
یہ ہم تم سے دعا لیتے، جو تم آتے

زین شکیل