دیکھو ہم نے چاند ستارہ لکھا ہے
لیکن تم کو سب سے پیارا لکھا ہے
میری جاں لینے کو لوگ آ جاتے ہیں
جب بھی تم کو جان سے پیارا لکھا ہے
ڈوبا ہے جو ایک منافع ،تُو ہی تھا
خود کو تیرے بعد خسارہ لکھا ہے
تم تو مجھ سے آدھا ملنے آئے تھے
میں نے پھر بھی تم کو سارا لکھا ہے
خط میں بھی ہم اور بھلا اب کیا لکھتے
ہم نے خود کو صرف تمہارا لکھا ہے
جس کے دم سے زینؔ اداسی قائم ہے
میں نے اس کو ایک سہارا لکھا ہے
زین شکیل