حیا والی وہ با کردار آنکھیں
سدا روشن رہیں سردار آنکھیں
ہوئی محسوس یوں پلکوں کی جنبش
کہ جیسے ہوں پسِ دیوار آنکھیں
یہ دیکھیں ناں، یہ دنیا دار مل کر
دکھاتے ہیں مجھے، سرکار ! آنکھیں
اب اُن آنکھوں سے نیندیں جھانکتی ہیں
وہ آنکھیں، ہائے وہ بیدار آنکھیں
زین شکیل
Haya wali woh ba-kirdar aankhein
Sada roshan rahein sardar aankhein
Hui mehsoos yun palkon ki jumbish
Ke jaise hoon pas-e-deewar aankhein
Yeh dekhein na, yeh duniya daar mil kar
Dikhaate hain mujhe, sarkar ! Aankhein
Ab un aankhon se neendein jhankti hain
Woh aankhein, haaye woh bedaar aankhein
زین شکیل 23 فروری 1992 کو جلالپور جٹاں، گجرات میں پیدا ہوئے۔ تعلیم اور پیشے کے اعتبار سے وہ سافٹ وئیر انجینیئر ہیں، لیکن ان کا دل ہمیشہ اردو اور پنجابی ادب کی طرف رہا۔ انہوں نے اپنی فنی اور ادبی دلچسپی کو عملی شکل دیتے ہوئے متعدد شعری مجموعے تخلیق کیے جو قاری کو گہرے جذبات اور احساسات سے روشناس کراتے ہیں۔ ان کے ابتدائی مجموعے "چلو اداسی کے پار ج...
مکمل تعارف پڑھیں