زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

ہمارےبارے میں دنیا اسے بتاتی رہے

ہمارےبارے میں دنیا اسے بتاتی رہے
وہ آ زمانے چلی ہے تو آزماتی رہے
اب اس کا ہجر مری جان ہی نہ لے جائے
اسے کہو کہ مرے شہر آتی جاتی رہے
یقیں کرو کہ مجھے اب یقیں نہیں کرنا
ہوا سناتی ہے جو کچھ مجھے سناتی رہے
تری شبوں میں نہ اتریں عذابِ ہجر کبھی
مگر دعا ہے تجھے چاندنی ستاتی رہے
یہ انتظار ہے کیا بھانولی سے پوچھ کبھی
جو اپنے گھر کو یونہی دیر تک سجاتی رہے
لباس شہر سے لاکر ضرور پہنو مگر
خیال رکھنا کہیں سادگی نہ جاتی رہے
میں بھول جاؤں اگر زین اپنی ذات کبھی
کسی کی یاد مجھے آئینہ دکھاتی رہے

زین شکیل