ہر ایک بات زباں کے تلے دبا آیا ہوں
میں اس کے پاس بڑی دور سے چلا آیا ہوں
میں قیدِ ذات میں رہ کر کبھی نہ چل پاتا
میں اس لئے ہی کہیں ذات کو چھپا آیا ہوں
اب آئینے کو بڑی حیرتوں سے دیکھتا ہوں
میں اپنا آپ کسی موڑ پر بھلا آیا ہوں
وہ جس میں تم ہی نہ تھے وہ نصیب کیا کرتا
میں تیرے بعد کہیں بخت کو سُلا آیا ہوں
خود اپنی ذات کے اک دشت میں بھٹکتا رہا
میں قافلے کو صحیح راہ پہ چلا آیا ہوں
زین شکیل