زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

جابجا بکھرتی ہے شب اداس لوگوں کی

جابجا بکھرتی ہے شب اداس لوگوں کی
آنکھ میں اترتی ہے شب اداس لوگوں کی
بادلوں میں رکھتی ہے دکھ کئی زمانوں کے
دیر تک برستی ہے شب اداس لوگوں کی
چھپ کے ایک تکیے میں اشک روتے رہتے ہیں
اس طرح گزرتی ہے شب اداس لوگوں کی
درد شب اسیروں سے خوب عشق کرتا ہے
درد میں نکھرتی ہے شب اداس لوگوں کی
بے قرار حالت میں مضطرب سے اس دل کے
صحن میں ٹہلتی ہے شب اداس لوگوں کی
بے کلی کے مارے یہ دن کا بین سنتے ہیں
آہ بھرتی رہتی ہے شب اداس لوگوں کی

زین شکیل