جانے کیا دھڑکتا ہے یار میرے سینے میں
بھر گیا ہے کون اتنا پیار میرے سینے میں
اس نے چھین لی آخر جیت میری آنکھوں سے
رہ گئی ہے باقی اب، ہار میرے سینے میں
اس قدر موثر ہے، عشق میرا مولاسے
خواہشیں جو دیتا ہے،مار میرے سینے میں
بے پناہ محبت سے میں انہیں بلاتا ہوں
پھر بھی بس نہیں پاتے، یار میرے سینے میں
پر کٹا تخیل تھا، سوچ کے پرندوں کا
اس لئے ہی آبکھری، ڈار میرے سینے میں
زین شکیل