زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

جب بھی کوئی بات چھپانا پڑتی ہے

جب بھی کوئی بات چھپانا پڑتی ہے
تب بھی ساری بات سنانا پڑتی ہے
تم بھی تو بس شام کا وعدہ کرتے ہو
ہم کو دن میں شام سجانا پڑتی ہے
بادل چھت سے روز ہی روٹھا رہتا ہے
مجھ کو خود برسات چرانا پڑتی ہے
جب سے وہ شوقین ہوا انگاروں کا
پانی میں بھی آگ جلانا پڑتی ہے
تنہائی کو بات بتاتا ہوں کچھ اور
لوگوں کو کچھ اور بتانا پڑتی ہے
وہ جو مجھ کو یاد کبھی نہ ہو پائی
اب مجھ کو وہ بات بھلانا پڑتی ہے
ان گالوں کی پیاس بجھانے کی خاطر
آنکھوں سے اک بوند گرانا پڑتی ہے
پہلے تجھ کو خواب میں دیکھا کرتا ہوں
پھر خود کو تعبیر بتانا پڑتی ہے

زین شکیل