زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

جب کبھی بے شمار سوچتا ہوں

جب کبھی بے شمار سوچتا ہوں
تیرے نقش و نگار سوچتا ہوں
اس لئے اشک تھم نہیں پاتے
میں تمہیں بار بار سوچتا ہوں
آنکھ سے بہہ گئیں سبھی سوچیں
اتنا زار و قطار سوچتا ہوں
یاد کرتا ہوں پہلے وعدوں کو
پھر ترا اعتبار سوچتا ہوں
یہ ترا کاج ہی نہیں چپ رہ
اے دلِ بے قرار، سوچتا ہوں!
واقعی رائیگاں گیا ہوں میں
ہو کے تجھ پر نثار سوچتا ہوں
خود پہ تو اختیار تھا ہی نہیں
تجھ کو بے اختیار سوچتا ہوں
اس نے پوچھا بتا کہاں جائیں؟
میں یہ بولاکہ یار، سوچتا ہوں!

زین شکیل