زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

جلتی کو مت اور جلاؤ، آجاؤ

جلتی کو مت اور جلاؤ، آجاؤ
مت سورج سے آنکھ ملاؤ، آجاؤ
سوچوں کا دریا تم کو لے ڈوبے گا
دیکھو اتنی دور نہ جاؤ، آجاؤ
شہر کے لوگ تو چیخ پکار نہیں سنتے
میرے کان میں بات بتاؤ، آجاؤ
تم بھی تو بیتاب تھے مجھ سے ملنے کو
دور کھڑے ہو مت شرماؤ، آجاؤ
میں نے تم کو دیکھ کے بازو کھولے ہیں
میرے سینے سے لگ جاؤ، آجاؤ
لوگ کہیں تقسیم مجھے نہ کر ڈالیں
جلدی آؤ، آ بھی جاؤ، آجاؤ
بعد میں دل کی بات تمہیں سمجھاؤں گا
پہلے آ کر تم سمجھاؤ، آجاؤ
یوں میں تم کو روز بلایا کرتا ہوں
آؤ، آؤ، آؤ، آؤ، آجاؤ

زین شکیل