جذبہء عشق ہے بے جان نہیں ہو سکتا
اب میں ہر بات پہ حیران نہیں ہو سکتا
یوں مجھے چھوڑ کے ہر روز چلے جاتے ہو
جیسے میرا کوئی نقصان نہیں ہو سکتا
ایک مدت سے کوئی خواب نہیں آیا ہے
آنکھ جتنا کوئی ویران نہیں ہو سکتا
ہے ترے ذکر سے دنیا مری اجلی اجلی
اب میں راہوں سے پریشان نہیں ہو سکتا
ایک ہی شخص رگ ِجاں میں سمایا ہوا ہے
ہر کوئی شخص مری جان نہیں ہو سکتا
میری یادوں میں وہ تا دیر تڑپنے والا
میرے زخموں سے تو انجان نہیں ہو سکتا
زین شکیل