زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

کھو گئے جانے کہاں لوگ پرانے والے

کھو گئے جانے کہاں لوگ پرانے والے
تو نے دیکھےہیں کہاں جان سے جانے والے
پھر کہانی میں وہی موڑ ہے آنے والا
مار دیتے ہیں مجھے لوگ زمانے والے
میرے گاؤں میں تو بس ایک یہی خامی ہے
لوٹ کر آتے نہیں شہر کو جانے والے
اس کے لہجے میں مقیّد ہے بلا کی ٹھنڈک
اور الفاظ سبھی دل کو جلانے والے
تو حقیقت کے تناظر میں کبھی مل مجھ سے
خواب ہوتے ہیں فقط نیند میں آنے والے
راہزن کا تو کوئی خوف نہیں تھا ہم کو
راستہ بھول گئے راہ بتانے والے

زین شکیل