زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

کلام کر

کلام کر ! حسین شخص !
دیکھ ! آسماں کے کان بھی لٹک گئے !
سماعتیں تری صدائے سبز کی تلاش میں بھٹک رہی ہیں دیر سے !
کلام کر ! اے مہ جبین شخص !
مجھ سے آج میرے گھر کی کھڑکیاں، دیوار و در یہ کہہ رہے ہیں !
کوئی رمزِ ہجر آشکار کر نہیں رہا !
چلو ہزار بار نا سہی تو ایک بار کر نہیں رہا !
کلام تیرا یار کر نہیں رہا !
کلام کر ! اے شہرِ قلب کے مکین شخص !
تُو تو جانتا نہیں کہ تو نے اضطراب کا سکون کس قدر تباہ کر دیا !
سکوت کا جو حبس ہے ! اسی کو بے پناہ کر دیا !
سفید گفتگو کا رنگ بھی سیاہ کر دیا !
کلام کر ! ذہین شخص !
تُو نے ہی کبھی مجھے کہا تھا ! 'پُر یقین شخص'
دیکھ ! تیری چپ مرا یقین کھا گئی !
یہی تو میرا آسماں ! مری زمین کھا گئی !
یہ میں / یہ میرا سب تو اک طرف !
تری یہ چُپ تمام سامعین کھا گئی !
کلام کر ! اے بہتروں میں بہترین شخص !
دیکھ ! میرا ضبط اب ہوا کی بد زبانیوں سے ٹوٹ جائے گا !
کوئی بھی سنگ اب مری صدا کے راستے میں آ گیا تو ٹوٹ جائے !
سماعتوں کے پاؤں میں جو آبلہ ہے پھوٹ جائے گا !
یہ بد عقیدہ ! بے ایمان ! بد چلن ہوا بھی مجھ سے کہہ رہی ہے !
اب مدھر صدا کی خوشبوئیں فضا میں گھولتا نہیں !
سُروں کو ٹولتا نہیں !
جنوں کا بھید کھولتا نہیں !
سماعتیں بہت اداس ہو گئی ہیں زین !
تیرا یار بولتا نہیں ؟
کلام کر !
کہ اب تمام بد زباں صداؤں کو زوال ہو !
سماعتیں جو تیرے واسطے ترس گئی ہیں !
ان کا دور اب ملال ہو !
جو ہو نہیں رہا ہے ! 'وہ' کمال ہو !
کلام کر !
کہ اب تمام بے قراریوں کی خیر ہو !
تمام ساعتوں کی آہ و زاریوں کی خیر ہو !
سماعتوں کی انتظاریوں کی خیر ہو !
تری صدا کی پردہ داریوں کی خیر ہو !

زین شکیل