زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

ٹھکرا دی تھی بستی ساری یاد کرو

ٹھکرا دی تھی بستی ساری یاد کرو
جب تم تھے جذبوں پر طاری یاد کرو
کُل کتنے دکھ سکھ تھے تیرے اور مرے
جتنے بھی تھے باری باری یاد کرو
کیا غم ہے گر تم کو راجہ یاد نہیں
سندرتا کی راج کماری یاد کرو
تم ساحل سے پہلے ہم کو آن ملے
تھا آنکھوں سے دریا جاری یاد کرو
بچھڑے تھے ہم عین کہانی بیچ مگر
تم اُس سے پہلے کی ساری یاد کرو
سہرا باندھے دکھ آئے گا پاس کبھی
کہتے تھے ناں؟ بات ہماری یاد کرو!
مجھ بھولے کو اب یہ آ کر کون کہے
جاں سے تھی میں تجھ کو پیاری، یاد کرو

زین شکیل