زین شکیل — شاعر کی تصویر

میری گھائل ذات ہوئی ہے لگتا ہے — زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

میری گھائل ذات ہوئی ہے لگتا ہے

میری گھائل ذات ہوئی ہے لگتا ہے
پھر سے شاید مات ہوئی ہے لگتا ہے
ان آنکھوں میں پھیل گئی ہے لالی سی
آنکھوں سے برسات ہوئی ہے لگتا ہے
بل ماتھے پر اور پرایا سا لہجہ
پھر سے کوئی بات ہوئی ہے لگتا ہے
یہ کٹنے کا نام نہیں کیونکر لیتی
اس کی رات سے بات ہوئی ہے لگتا ہے

Meri ghaayal zaat hui hai lagta hai

Meri ghaayal zaat hui hai lagta hai
Phir se shayad maat hui hai lagta hai
In aankhon mein phail gayi hai laali si
Aankhon se barsaat hui hai lagta hai
Bal maathe par aur paraya sa lahja
Phir se koi baat hui hai lagta hai
Ye katne ka naam nahin kyunkar leti
Us ki raat se baat hui hai lagta hai

شاعر کے بارے میں

زین شکیل

زین شکیل 23 فروری 1992 کو جلالپور جٹاں، گجرات میں پیدا ہوئے۔ تعلیم اور پیشے کے اعتبار سے وہ سافٹ وئیر انجینیئر ہیں، لیکن ان کا دل ہمیشہ اردو اور پنجابی ادب کی طرف رہا۔ انہوں نے اپنی فنی اور ادبی دلچسپی کو عملی شکل دیتے ہوئے متعدد شعری مجموعے تخلیق کیے جو قاری کو گہرے جذبات اور احساسات سے روشناس کراتے ہیں۔ ان کے ابتدائی مجموعے "چلو اداسی کے پار ج...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام