محبت کے سبھی موسم گزرتے جا رہے ہیں تم چلے آؤ
سہارے، سب ستارے چاند سے گھبرا رہے ہیں تم چلے آؤ
کہا بھی تھا بچھڑ جانے سے اچھا تھا کبھی نہ تم ملے ہوتے
سنو! اب درد سارے طنز کرتے جا رہے ہیں تم چلے آؤ
تمہارے ہجر کو آباد رکھا ہے مری آنکھوں نے رو رو کر
مرے آنسو حدوں کو پار کرتے جا رہے ہیں تم چلے آؤ
ہوائیں سخت بے چینی کے عالم میں مرے چہرے کو چھوتی ہیں
مجھے اک ایک کر کے درد ملتے جا رہے ہیں تم چلے آؤ
مجھے تم نے کہا تھا روح سے اب تو جدائی ہو نہیں سکتی
سو میری روح پر پیوند لگتے جا رہے ہیں تم چلے آؤ
ہم اُس کے شہر کی ساری ہی دیواروں پہ یہ پیغام لکھ آئے
تمہارے شہر سے ہم ہاتھ ملتے جا رہے ہیں تم چلے آؤ
بھلا میں کس طرح اب زینؔ غیروں سے گلہ کرنے چلا جاؤں
مرے اپنے بھی اب چہرہ بدلتے جا رہے ہیں تم چلے آؤ
زین شکیل