مجھ کو شاید ہرا بھرا کر دے !
تیری آواز معجزہ کر دے !
جینے والوں کو تُو نہیں مطلوب !
مرنے والوں کا فائدہ کر دے !
اُن کی نظروں میں آ چکا ہوں میں
کیا پتا ؟ مجھ کو کیا سے کیا کر دے ؟
راج چلتا ہے اس کی آنکھوں کا
وہ جسے چاہے سرپھرا کر دے
رونے والوں کی خیر ہے سائیں !
ہنسنے والوں کا ہی بھلا کر دے !
عشق کا لطف ہی نہیں آتا !
عشق جب تک نہ باولا کر دے !
میں اگر تیرے کام کا ہی نہیں !
پھر مجھے میرے کام کا کر دے !
جو گلہ اُس سے ہے ! رہے اُس سے !
یا خدا ! خود سے بے گلہ کر دے !
یار ! انکار تھوڑی کرتا ہوں !
جو بھی غم دے ! مجھے بتا کر دے !
رائیگاں کر نہیں یہ شیریں دہن
لا مجھے زہر میں ملا کر دے
صاحبہ بادشاہا سرکارا
کچھ نہیں ہوں مگر فنا کر دے
میں پھر اس بار مان جاوں اور
تو منا کر مجھے خفا کر دے
یہ مری قید کا تقاضا ہے !
ہر رہائی سے اب رہا کر دے !
روز کا فیصلہ اذیت ہے !
آخری بار فیصلہ کر دے !
ابتدا ہے یہی تغافل کی !
بس توجہ کی انتہا کر دے !
زین کیوں ساتھ رکھ لیا ہے اُسے ؟
جو جدا ہو گیا ! جدا کر دے !
زین شکیل