مری جو تم سے قربت ہو چلی ہے
یہ میری وجہِ شہرت ہو چلی ہے
ابھی بھی وقت ہے تم لوٹ جاؤ
مجھے تم سے محبت ہو چلی ہے
ہماری زندگی کے چاند ہو تم
تمہیں تکنے کی عادت ہو چلی ہے
تمہیں یوں احتیاطاً بھولنے پر
جنوں سے مجھ کو نسبت ہو چلی ہے
کوئی تو سیکھ لے مرہم لگانا
مجھے زخموں کی عادت ہو چلی ہے
تجھے خاموشیوں سے بات کرتے
سنا ہے ایک مدت ہو چلی ہے
ابھی عدت میں بیٹھی ہیں یہ خوشیاں
غموں سے مجھ کو رغبت ہو چلی ہے
خدا جانے یہ کیسا مرحلہ ہے
اداسی بھی عبادت ہو چلی ہے
زین شکیل