زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

مری زباں کے سبھی حرف تولنے والے

مری زباں کے سبھی حرف تولنے والے
خموش کیوں ہیں مِرے دوست بولنے والے
بتا، نا! اب وہ ترا ساتھ کیوں نہیں دیتے
قدم قدم پہ ترے ساتھ ڈولنے والے
نہ جانے کون سی نگری میں جا بسے آخر
وہ یار لوگ وہ بانہوں کو کھولنے والے
خموش رہ کے بھی باتیں ہزار کرتے ہو
ہنر کہاں سے تجھے آئے بولنے والے
تجھے ہی ڈھونڈتی رہتی ہیں بے اثر آنکھیں
نگاہِ شوق میں تاثیر گھولنے والے

زین شکیل