مسلسل ہی بھلایا جا رہا ہوں
میں لکھ لکھ کر مٹایا جا رہا ہوں
مجھے سننے پہ جو راضی نہیں ہے
اسے پھر بھی سنایا جا رہا ہوں
مجھے ہر طور ہے مٹی میں ملنا
نگاہوں سے بہایا جا رہا ہوں
محبت نے سیاست سیکھ لی ہے
سلیقے سے ستایا جا رہا ہوں
عجب ہے ہاتھ اس کا تھامنا بھی
اٹھا کر پھر گرایا جا رہا ہوں
جہاں پر امتحاں بنتا نہیں ہے
وہیں پر آزمایا جا رہا ہوں
مجھے کیا گیت سمجھی ،زین، دنیا؟
جو اتنا گنگنایا جا رہا ہوں
زین شکیل