میرا جیون اداس کر گئے ناں
وقفِ خوف و ہراس کر گئے ناں
میں نے دکھ خود سے دور رکھے تھے
تم انہیں آس پاس کر گئے ناں
لے گئے حسرتوں کا پہناوا
خواہشیں بے لباس کر گئے ناں
سکھ اداسی کے گیت گاتے ہیں
درد سے روشناس کر گئے ناں
زین اپنی بجھی سی باتوں سے
ساری بستی اداس کر گئے ناں
زین شکیل