زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

وہ بانٹتا ہے اگر کچھ تو یہ ستم بانٹے

وہ بانٹتا ہے اگر کچھ تو یہ ستم بانٹے
جنوں میں عقل کو تھوڑا سا کر کے ضم، بانٹے
دَروں کے حبس کو خود میں سمیٹ لیتا ہے
یہ ایسا ابر نہیں ہے جو صرف نَم بانٹے
تمہارے ہاتھ اٹھے ہی نہیں زمانوں سے !
سخی کو وقت بہت ہو چکا، کرم بانٹے !
اسی لیے تو میسر اُسے میں آؤں نہیں !
فراخ دل ہے ! وہ ہر شے کو ایک دم بانٹے !
اسے کہو کہ اسے لوگ خرچ کر دیں گے !
جو بانٹنے ہی لگا ہے تو خود کو کم بانٹے !
یہ بانٹ سکتے نہیں ہیں ! سنا رہے ہو جنھیں !
تم اِس فقیر سے کہہ لو ! تمہارا غم بانٹے !

زین شکیل