کلامِ شاعر
- 01 ساحرہ!
- 02 مجھ کو شاید ہرا بھرا کر دے
- 03 تُو کہاں تھا
- 04 خیال و خواب سے باہر اٹھا کے رکھ دو مجھے
- 05 کلام کر
- 06 اداسی بین کرتی ہے
- 07 ہمیں دکھ رہا تو یہی رہا ہمیں لب نچوڑنے پڑ گئے
- 08 حیا والی وہ با کردار آنکھیں
- 09 وہ بولی کیا ہوا گر آنکھ میں آنسو نہیں آئے
- 10 جذبہ عشق ہے بے جان نہیں ہو سکتا
- 11 قصّے کو کچھ ایسا اُس نے موڑ دیا
- 12 وہ بانٹتا ہے اگر کچھ تو یہ ستم بانٹے
- 13 دونوں کے درمیان مُقدّر تو آئے گا
- 14 آنکھوں سے چند خواب گزرنے کے بعد بھی
- 15 جو کبھی بھی نہیں رہا ناراض
- 16 بھلا فقیر کو دنیا کی کیا ضرورت ہے
- 17 جب کبھی بے شمار سوچتا ہوں
- 18 تن تنہا جو سنگ چلے تھے دنیا کے
- 19 تیرے اکتاتے ہوئے لمس سے محسوس ہوا
- 20 سماعتوں میں فقط ایک نام جاری ہے
- 21 پھول روتے ہیں تو دیتی ہے دہائی تتلی
- 22 کچھ بھی ہو سکتے تھے، تسخیر نہیں ہونا تھا!
- 23 دھڑکنوں کا سینے میں کب سے بین جاری ہے، کتنی سوگواری ہے!
- 24 سسک رہا تھا مِرا اک سوال، تُو چپ تھا
- 25 زخم سارے ہی بھر دیے میں نے
- 26 بے زبانوں سے کسی طور صدائیں مانگوں
- 27 میری یادیں سنبھال رکھتے ناں
- 28 پیارا ہے، دلربا ہے وہ چاہیں نہیں تو کیا کریں
- 29 تمہاری یاد اتاری ہے دور تک خود میں
- 30 محبت تھی یہ نادانی نہیں تھی
- 31 میری ہر بات پہ حیران نہ ہونا پاگل
- 32 جابجا بکھرتی ہے شب اداس لوگوں کی
- 33 دل مچلنے لگا ہے بولو کچھ
- 34 دیا ہم بھی جلا لیتے، جو تم آتے
- 35 یہی ملال مجھے بولنے نہیں دیتا
- 36 حیرتِ عشق سے نکلوں تو کدھر جاؤں میں
- 37 چلتا پھرتا ہوا وہ تم نے جو غم دیکھا تھا
- 38 ہر طرف ان کے جلووں کی برسات ہے، واہ کیا بات ہے!
- 39 لگتی ہے ہر بار قسم سے
- 40 یوں کہانی تو سنانی نہیں آتی مجھ کو
- 41 درِ سخا بھی ابھی تک ترا کھلا ہی نہیں
- 42 تمہیں یہ ظلم کرنا آ گیا ہے؟
- 43 دل اپنا رنجور ہوا ہے، حد ہے ناں
- 44 آج پھر ہوش ٹھکانے لگے ہیں
- 45 زمانے بھر کو نہ دکھ سناتے، مجھے بتاتے!
- 46 پھٹے ہوئے لباس سے تو شخصیت نہ تولیے
- 47 پھر تو پیڑوں سے بھی دو نام مٹا دینے تھے
- 48 مجھے ہنسنا نہیں آتا، ملو مجھ سے
- 49 مری ذات مجھ سے جدا نہ کر، مجھے مل کبھی
- 50 وہ بہت دور کھڑی تھی، جو تھی!
- 51 جذبہء عشق ہے بے جان نہیں ہو سکتا
- 52 ہو سکتی نہیں جس کی کوئی بات علیحدہ
- 53 سارے موسم ہیں یہاں اب تو سزاؤں والے
- 54 دیکھو ہم نے چاند ستارہ لکھا ہے
- 55 بکھری ہیں میرے گھر میں وہ بے رنگ چوڑیاں
- 56 تیرے پہلو میں شام کرتا ہوں
- 57 گزر چکا ہوں کسی لامکاں سے،پہلے ہی
- 58 ہمارے پاس آؤ مسکراؤ
- 59 تمہارے واسطے جنجھوڑنے پڑے سگریٹ
- 60 روتے روتے مسکرانا چاہئیے
- 61 تیرے بنا تو اب ہم خوش خوش کیا رہتے
- 62 میں بھی دن رات سرابوں میں پڑا رہتا ہوں
- 63 آ سہانی سی شام والے آ
- 64 درد جتنے ہیں میرے ذاتی ہیں
- 65 سوچ رہا ہوں تجھ سے ناتا توڑوں میں
- 66 ہم ہی ہو جائیں ترے شہر ، در بدر کیونکر
- 67 مرے پاس آ مرے ہمنوا ابھی عید ہے
- 68 اس کی آنکھوں میں کوئی خواب ہمارا بھی نہیں
- 69 تو سمندر، کوئی دھارا تو نہیں ہو سکتا
- 70 پھیلی ہے جو آنکھوں میں وہ لالی تو نہیں ہے
- 71 اک تری یاد کو بس رختِ سفر جانا ہے
- 72 تری نگاہ میں کیوں ابر آ ٹھہرتا ہے
- 73 پیار جتانے آ جانا تھا
- 74 پھر پریشان کر دیا گیا ہوں
- 75 شہر والوں کی کوئی بات نہ موڑی اس نے
- 76 ہمارےبارے میں دنیا اسے بتاتی رہے
- 77 دل کی کوئی بھی بات بتایا نہ کر مجھے
- 78 اے دوست محترم ہوں ذرا احتیاط کر
- 79 جنوں کو محترم کرنے لگے ہو
- 80 جانے کیا دھڑکتا ہے یار میرے سینے میں
- 81 جب بھی کوئی بات چھپانا پڑتی ہے
- 82 بس گئی پھر دل کی بستی خواب میں
- 83 تمہیں دل سے مٹا دینے کا موسم تھا
- 84 عشق دریا میں نہیں کوئی کنارا یارا
- 85 یہ ستارے جو لبِ بام نکل آتے ہیں
- 86 درد بھی راس ہونے لگتا ہے
- 87 ہر شخص کو حالات سنانے نہیں جاتا
- 88 تمام حرف بڑے ہی کرخت بولے تھے
- 89 چین دے دوں قرار دوں امّاں
- 90 شام کا پہلا تارہ میں ہوں
- 91 یہیں پہ تھا میں کدھر گیا ہوں
- 92 جس کا چاہا جیسے دل
- 93 قابلِ داد ہو گئے کیسے
- 94 ہر ایک بات زباں کے تلے دبا آیا ہوں
- 95 ہر ایک بات زباں کے تلے دبا آیا ہوں
- 96 چل اس نگری میں چل بادل
- 97 کھڑکیوں سے جھانکتی رہ جاؤ گی
- 98 ہم نے سوچا تمہیں ہر گھڑی اور پل، اور کیا سوچتے
- 99 چار سو پھیلتا جا رہا ہے سفر، کیا کہوں اب تمہیں
- 100 اب تو گھر جانے پہ دکھ ہوتا ہے
- 101 جب اسے حال سنا لیتا ہوں
- 102 شام، دریا، ندی، کنارے، تم
- 103 جب کبھی بے شمار سوچتا ہوں
- 104 جلتی کو مت اور جلاؤ، آجاؤ
- 105 ایسےویسے، ویسے ، ایسے کیسے ہیں
- 106 بجھ بیٹھے جو دیپ جلاؤ، چلتا ہوں
- 107 بادل کِن مِن تَکّ دِھنا دِھن تا نا نا
- 108 آرزو کا کوئی پندار بدل کر آئے
- 109 اتنا سوچا، اتنا سوچا، حیرت ہے!
- 110 مسلسل ہی بھلایا جا رہا ہوں
- 111 تو نے آخر رُلادیا مجھ کو
- 112 پھر سے تیرا ہو جانا ہی بہتر ہے
- 113 کس کو کس کس لمحے کھونا ہوتا ہے
- 114 ٹھکرا دی تھی بستی ساری یاد کرو
- 115 کس نے ہنستی ہوئی تصویر کے آنسو پونچھے
- 116 درد آزاد ہونے والا ہے
- 117 آنکھ کے کنارے پر، کچھ نہیں تھا ہو سکتا
- 118 مرے وجود سے تیرا خمار ڈرتا ہے
- 119 جو ستارہ اداس ہے لوگو
- 120 میری گھائل ذات ہوئی ہے لگتا ہے
- 121 دیکھ لے گی ہوا ترا لہجہ
- 122 جن پر بے ثمری کی تہمت لگ جائے
- 123 آنکھیں بھی تو بھر آتی ہیں اکثر ہی مسکانے سے
- 124 جو بھی آیا تھا فیصلہ بابا
- 125 درد کو کر بحال ڈال دھمال
- 126 تنہائی بھی سہہ لیتا ہوں روتا ہوں
- 127 وہاں جھوٹوں پہ سب راضی تھے لیکن
- 128 ساتھ کسی کا چھوٹ گیا دل بیٹھ گیا
- 129 دل نے رنج و ملال اپنائے
- 130 اب کیسے بتائیں، تمہیں کیسا نہیں سوچا
- 131 سبھی موسم ہمارے ہیں چلے آؤ
- 132 مری جو تم سے قربت ہو چلی ہے
- 133 کوئی لمحہ اجڑ جانے کی باتیں
- 134 خواب میں بھی ترا خیال رہا
- 135 درد کی ہی اساس ہوں میں تو
- 136 اکثر دل کا حال سنا کر روئے ہیں
- 137 جو میرے دل میں اداسی کو بھر کے جانے لگا
- 138 ترا شہر کتنا تھا معتبر مری آنکھ میں
- 139 کس نے آخر من کا دیپ بجھایا ہے
- 140 کھو گئے جانے کہاں لوگ پرانے والے
- 141 آنسو دھانی ہو جاتے ہیں
- 142 یہ جو اب آس پاس موسم ہے
- 143 کسی کی آنکھ سے نکلے ستارے بانٹ لینے تھے
- 144 تجھ سے بچھڑا رہوں گا، کیا کروں گا
- 145 میرا جیون اداس کر گئے ناں
- 146 ترا وہ نگاہوں سے بولنا، نہیں بھولنا
- 147 اک بجھارت میں نہ الجھاؤ، چلو چھوڑو بھی
- 148 خود کو میں توڑ کے پھر جوڑ کے لاؤں! جاؤں؟
- 149 تُو ایک بار مجھے رازداں بنا لیتا!!
- 150 چپ رہ کر بھی یار پکارا جا سکتا ہے
- 151 مری زباں کے سبھی حرف تولنے والے
- 152 تمہاری بے رخی مجھ کو وبالِ جان لگتی ہے
- 153 مجھے لے چل اپنے سنگ پیا
- 154 چل چپ کر بات نہ کر ڈھولا
- 155 سینے میں ایک درد پروتی ہیں بارشیں
- 156 تیرا دکھ دوبارہ دیکھا جائے گا
- 157 آسمانوں سے بلایا بھی نہیں جا سکتا
- 158 میں کہ پھر روئے بنا رات نہیں کرتا ناں!
- 159 ذرا سی دیر مِرے ساتھ تم چلے آؤ!
- 160 زندگی ہو گئی ہے خفا ان دنوں
- 161 وہ مانگتا ہے محبت کا اب صلہ مجھ سے
- 162 کسی فراق میں رکھے ہوئے وصال کے دن
- 163 درد سے رشتہ نبھانے کے لیے
- 164 ہوا کے لمس دیکھا کر، گنا نہ کر
- 165 تمہیں دل نے پکارا ہے، مجھے تم یاد آتے ہو
- 166 محبت آزماتی ہے مجھے تم یاد آتے ہو
- 167 اس بار بھی میں وجہِ خسارہ سمجھ گیا
- 168 پھر آنکھوں نے خواب سجایا ہو گا ناں
- 169 درد دل میں سمو لیا جائے
- 170 کمال پر کمال، پھر کمال کر لیا گیا
- 171 رات گھر میں اتر گئی ہو گی
- 172 چاند کو اور بھی نکھار ملے
- 173 دشتِ غم سے گزر کے آیا تھا
- 174 اس طرح تیرے خیالوں میں رہا کرنا ہے
- 175 نہ مجھ سے اور کوئی بات مانی جائے گی
- 176 خود ہنگامہ آرا ہے یا بد ہنگام محبت
- 177 میں گُن جو عشق کے گانے لگا ہوں
- 178 تنہائی میں دیپ جلانا شہزادی
- 179 تیرگی میں بھی روشنی ہے ناں
- 180 کچھ اس طرح مری قسمت سنوار دی گئی ہے
- 181 وہ آئینوں سے جو بے خبر ہے، حسین تر ہے
- 182 اس کی آنکھوں کے سمندر میں اترنے کے سوا
- 183 اداسیوں کا اجاڑ موسم کبھی ستائے تو مجھ سے کہنا
- 184 مرے پہلو میں رہ کر بھی کہیں رُوپوش ہو جانا
- 185 یہ تو لوگوں نے یونہی بات بنائی ہوئی ہے
- 186 بیت چلی برسات وے سانول
- 187 دشت و ویراں میں کہیں کٹیا بسائے ہوئے لوگ
- 188 کیا آج مرا کیا کل سائیاں
- 189 تجھ کو ہر شعر میں تجسیم نہیں کرنا ناں
- 190 درد کی اوٹ میں پلکوں کو جھکا کر رونا
- 191 محبت کے سبھی موسم گزرتے جا رہے ہیں تم چلے آؤ
- 192 دید محبت، طور محبت
- 193 وہ جو لگتا ہے ہمیں جان سے پیارا پاگل
- 194 دل و نگاہ میں جو اس کی بال تھا تو کیا ہوا
- 195 درِ سخا بھی ابھی تک ترا کھلا ہی نہیں
- 196 خامشی کو ٹٹولتا ہوا تُو
- 197 دل سے نکلی ہے یہ صدا، مرشد
- 198 اتنے بے جان سہارے تو نہیں ہوتے ناں
- 199 اس کے اندر تھیں وہ سبحانی باتیں، سبحان اللہ!
- 200 مری تھم تھم جاوے سانس پیا
- 201 سُن سانسوں کے سلطان پیا
- 202 عہدِ نارسائی میں
- 203 تمہی نہیں ہو تو زندگانی میں کچھ نہیں ہے
- 204 ساحرہ (اقتباس)
- 205 آنکھوں سے ہی بتلائیں گے ! جس کا قصّہ پوچھے گا
- 206 میں بولا کھو دیا مجھ کو