search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
زین شکیل
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
مجھ کو شاید ہرا بھرا کر دے
تُو کہاں تھا
خیال و خواب سے باہر اٹھا کے رکھ دو مجھے
کلام کر
اداسی بین کرتی ہے
ہمیں دکھ رہا تو یہی رہا ہمیں لب نچوڑنے پڑ گئے
حیا والی وہ با کردار آنکھیں
وہ بولی کیا ہوا گر آنکھ میں آنسو نہیں آئے
جذبہ عشق ہے بے جان نہیں ہو سکتا
قصّے کو کچھ ایسا اُس نے موڑ دیا
وہ بانٹتا ہے اگر کچھ تو یہ ستم بانٹے
دونوں کے درمیان مُقدّر تو آئے گا
آنکھوں سے چند خواب گزرنے کے بعد بھی
جو کبھی بھی نہیں رہا ناراض
بھلا فقیر کو دنیا کی کیا ضرورت ہے
جب کبھی بے شمار سوچتا ہوں
تن تنہا جو سنگ چلے تھے دنیا کے
تیرے اکتاتے ہوئے لمس سے محسوس ہوا
سماعتوں میں فقط ایک نام جاری ہے
پھول روتے ہیں تو دیتی ہے دہائی تتلی
کچھ بھی ہو سکتے تھے، تسخیر نہیں ہونا تھا!
دھڑکنوں کا سینے میں کب سے بین جاری ہے، کتنی سوگواری ہے!
سسک رہا تھا مِرا اک سوال، تُو چپ تھا
زخم سارے ہی بھر دیے میں نے
بے زبانوں سے کسی طور صدائیں مانگوں
میری یادیں سنبھال رکھتے ناں
پیارا ہے، دلربا ہے وہ چاہیں نہیں تو کیا کریں
تمہاری یاد اتاری ہے دور تک خود میں
محبت تھی یہ نادانی نہیں تھی
میری ہر بات پہ حیران نہ ہونا پاگل
جابجا بکھرتی ہے شب اداس لوگوں کی
دل مچلنے لگا ہے بولو کچھ
دیا ہم بھی جلا لیتے، جو تم آتے
یہی ملال مجھے بولنے نہیں دیتا
حیرتِ عشق سے نکلوں تو کدھر جاؤں میں
چلتا پھرتا ہوا وہ تم نے جو غم دیکھا تھا
ہر طرف ان کے جلووں کی برسات ہے، واہ کیا بات ہے!
لگتی ہے ہر بار قسم سے
یوں کہانی تو سنانی نہیں آتی مجھ کو
درِ سخا بھی ابھی تک ترا کھلا ہی نہیں
تمہیں یہ ظلم کرنا آ گیا ہے؟
دل اپنا رنجور ہوا ہے، حد ہے ناں
آج پھر ہوش ٹھکانے لگے ہیں
زمانے بھر کو نہ دکھ سناتے، مجھے بتاتے!
پھٹے ہوئے لباس سے تو شخصیت نہ تولیے
پھر تو پیڑوں سے بھی دو نام مٹا دینے تھے
مجھے ہنسنا نہیں آتا، ملو مجھ سے
مری ذات مجھ سے جدا نہ کر، مجھے مل کبھی
وہ بہت دور کھڑی تھی، جو تھی!
جذبہء عشق ہے بے جان نہیں ہو سکتا
ہو سکتی نہیں جس کی کوئی بات علیحدہ
سارے موسم ہیں یہاں اب تو سزاؤں والے
دیکھو ہم نے چاند ستارہ لکھا ہے
بکھری ہیں میرے گھر میں وہ بے رنگ چوڑیاں
تیرے پہلو میں شام کرتا ہوں
گزر چکا ہوں کسی لامکاں سے،پہلے ہی
ہمارے پاس آؤ مسکراؤ
تمہارے واسطے جنجھوڑنے پڑے سگریٹ
روتے روتے مسکرانا چاہئیے
تیرے بنا تو اب ہم خوش خوش کیا رہتے
میں بھی دن رات سرابوں میں پڑا رہتا ہوں
آ سہانی سی شام والے آ
درد جتنے ہیں میرے ذاتی ہیں
سوچ رہا ہوں تجھ سے ناتا توڑوں میں
ہم ہی ہو جائیں ترے شہر ، در بدر کیونکر
مرے پاس آ مرے ہمنوا ابھی عید ہے
اس کی آنکھوں میں کوئی خواب ہمارا بھی نہیں
تو سمندر، کوئی دھارا تو نہیں ہو سکتا
پھیلی ہے جو آنکھوں میں وہ لالی تو نہیں ہے
اک تری یاد کو بس رختِ سفر جانا ہے
تری نگاہ میں کیوں ابر آ ٹھہرتا ہے
پیار جتانے آ جانا تھا
پھر پریشان کر دیا گیا ہوں
شہر والوں کی کوئی بات نہ موڑی اس نے
ہمارےبارے میں دنیا اسے بتاتی رہے
دل کی کوئی بھی بات بتایا نہ کر مجھے
اے دوست محترم ہوں ذرا احتیاط کر
جنوں کو محترم کرنے لگے ہو
جانے کیا دھڑکتا ہے یار میرے سینے میں
جب بھی کوئی بات چھپانا پڑتی ہے
بس گئی پھر دل کی بستی خواب میں
تمہیں دل سے مٹا دینے کا موسم تھا
عشق دریا میں نہیں کوئی کنارا یارا
یہ ستارے جو لبِ بام نکل آتے ہیں
درد بھی راس ہونے لگتا ہے
ہر شخص کو حالات سنانے نہیں جاتا
تمام حرف بڑے ہی کرخت بولے تھے
چین دے دوں قرار دوں امّاں
شام کا پہلا تارہ میں ہوں
یہیں پہ تھا میں کدھر گیا ہوں
جس کا چاہا جیسے دل
قابلِ داد ہو گئے کیسے
ہر ایک بات زباں کے تلے دبا آیا ہوں
ہر ایک بات زباں کے تلے دبا آیا ہوں
چل اس نگری میں چل بادل
کھڑکیوں سے جھانکتی رہ جاؤ گی
ہم نے سوچا تمہیں ہر گھڑی اور پل، اور کیا سوچتے
چار سو پھیلتا جا رہا ہے سفر، کیا کہوں اب تمہیں
اب تو گھر جانے پہ دکھ ہوتا ہے
جب اسے حال سنا لیتا ہوں
شام، دریا، ندی، کنارے، تم
جب کبھی بے شمار سوچتا ہوں
جلتی کو مت اور جلاؤ، آجاؤ
ایسےویسے، ویسے ، ایسے کیسے ہیں
بجھ بیٹھے جو دیپ جلاؤ، چلتا ہوں
بادل کِن مِن تَکّ دِھنا دِھن تا نا نا
آرزو کا کوئی پندار بدل کر آئے
اتنا سوچا، اتنا سوچا، حیرت ہے!
مسلسل ہی بھلایا جا رہا ہوں
تو نے آخر رُلادیا مجھ کو
پھر سے تیرا ہو جانا ہی بہتر ہے
کس کو کس کس لمحے کھونا ہوتا ہے
ٹھکرا دی تھی بستی ساری یاد کرو
کس نے ہنستی ہوئی تصویر کے آنسو پونچھے
درد آزاد ہونے والا ہے
آنکھ کے کنارے پر، کچھ نہیں تھا ہو سکتا
مرے وجود سے تیرا خمار ڈرتا ہے
جو ستارہ اداس ہے لوگو
میری گھائل ذات ہوئی ہے لگتا ہے
دیکھ لے گی ہوا ترا لہجہ
جن پر بے ثمری کی تہمت لگ جائے
آنکھیں بھی تو بھر آتی ہیں اکثر ہی مسکانے سے
جو بھی آیا تھا فیصلہ بابا
درد کو کر بحال ڈال دھمال
تنہائی بھی سہہ لیتا ہوں روتا ہوں
وہاں جھوٹوں پہ سب راضی تھے لیکن
ساتھ کسی کا چھوٹ گیا دل بیٹھ گیا
دل نے رنج و ملال اپنائے
اب کیسے بتائیں، تمہیں کیسا نہیں سوچا
سبھی موسم ہمارے ہیں چلے آؤ
مری جو تم سے قربت ہو چلی ہے
کوئی لمحہ اجڑ جانے کی باتیں
خواب میں بھی ترا خیال رہا
درد کی ہی اساس ہوں میں تو
اکثر دل کا حال سنا کر روئے ہیں
جو میرے دل میں اداسی کو بھر کے جانے لگا
ترا شہر کتنا تھا معتبر مری آنکھ میں
کس نے آخر من کا دیپ بجھایا ہے
کھو گئے جانے کہاں لوگ پرانے والے
آنسو دھانی ہو جاتے ہیں
یہ جو اب آس پاس موسم ہے
کسی کی آنکھ سے نکلے ستارے بانٹ لینے تھے
تجھ سے بچھڑا رہوں گا، کیا کروں گا
میرا جیون اداس کر گئے ناں
ترا وہ نگاہوں سے بولنا، نہیں بھولنا
اک بجھارت میں نہ الجھاؤ، چلو چھوڑو بھی
خود کو میں توڑ کے پھر جوڑ کے لاؤں! جاؤں؟
تُو ایک بار مجھے رازداں بنا لیتا!!
چپ رہ کر بھی یار پکارا جا سکتا ہے
مری زباں کے سبھی حرف تولنے والے
تمہاری بے رخی مجھ کو وبالِ جان لگتی ہے
مجھے لے چل اپنے سنگ پیا
چل چپ کر بات نہ کر ڈھولا
سینے میں ایک درد پروتی ہیں بارشیں
تیرا دکھ دوبارہ دیکھا جائے گا
آسمانوں سے بلایا بھی نہیں جا سکتا
میں کہ پھر روئے بنا رات نہیں کرتا ناں!
ذرا سی دیر مِرے ساتھ تم چلے آؤ!
زندگی ہو گئی ہے خفا ان دنوں
وہ مانگتا ہے محبت کا اب صلہ مجھ سے
کسی فراق میں رکھے ہوئے وصال کے دن
درد سے رشتہ نبھانے کے لیے
ہوا کے لمس دیکھا کر، گنا نہ کر
تمہیں دل نے پکارا ہے، مجھے تم یاد آتے ہو
محبت آزماتی ہے مجھے تم یاد آتے ہو
اس بار بھی میں وجہِ خسارہ سمجھ گیا
پھر آنکھوں نے خواب سجایا ہو گا ناں
درد دل میں سمو لیا جائے
کمال پر کمال، پھر کمال کر لیا گیا
رات گھر میں اتر گئی ہو گی
چاند کو اور بھی نکھار ملے
دشتِ غم سے گزر کے آیا تھا
اس طرح تیرے خیالوں میں رہا کرنا ہے
نہ مجھ سے اور کوئی بات مانی جائے گی
خود ہنگامہ آرا ہے یا بد ہنگام محبت
میں گُن جو عشق کے گانے لگا ہوں
تنہائی میں دیپ جلانا شہزادی
تیرگی میں بھی روشنی ہے ناں
کچھ اس طرح مری قسمت سنوار دی گئی ہے
وہ آئینوں سے جو بے خبر ہے، حسین تر ہے
اس کی آنکھوں کے سمندر میں اترنے کے سوا
اداسیوں کا اجاڑ موسم کبھی ستائے تو مجھ سے کہنا
مرے پہلو میں رہ کر بھی کہیں رُوپوش ہو جانا
یہ تو لوگوں نے یونہی بات بنائی ہوئی ہے
بیت چلی برسات وے سانول
دشت و ویراں میں کہیں کٹیا بسائے ہوئے لوگ
کیا آج مرا کیا کل سائیاں
تجھ کو ہر شعر میں تجسیم نہیں کرنا ناں
درد کی اوٹ میں پلکوں کو جھکا کر رونا
محبت کے سبھی موسم گزرتے جا رہے ہیں تم چلے آؤ
دید محبت، طور محبت
وہ جو لگتا ہے ہمیں جان سے پیارا پاگل
دل و نگاہ میں جو اس کی بال تھا تو کیا ہوا
درِ سخا بھی ابھی تک ترا کھلا ہی نہیں
خامشی کو ٹٹولتا ہوا تُو
دل سے نکلی ہے یہ صدا، مرشد
اتنے بے جان سہارے تو نہیں ہوتے ناں
اس کے اندر تھیں وہ سبحانی باتیں، سبحان اللہ!
مری تھم تھم جاوے سانس پیا
سُن سانسوں کے سلطان پیا
عہدِ نارسائی میں
تمہی نہیں ہو تو زندگانی میں کچھ نہیں ہے
ساحرہ (اقتباس)
آنکھوں سے ہی بتلائیں گے ! جس کا قصّہ پوچھے گا
میں بولا کھو دیا مجھ کو