پیارا ہے، دلربا ہے وہ چاہیں نہیں تو کیا کریں
پھیلا ہے چار سو وہی سوچیں نہیں تو کیا کریں
نازوں سے پاس آئے گا، لاڈوں سے وہ منائے گا
ایسی ادائیں دیکھ کر، روٹھیں نہیں تو کیا کریں
پوچھا تھا اس نے آج یہ روتے ہو کیوں تو یہ کہا
دکھ وہ جو بے حساب ہیں، بھولیں نہیں، تو کیا کریں
وہ کوئی چاند تو نہیں ابر میں جا چھپے گا جو
نظروں سے ہٹ نہ پائے وہ، دیکھیں نہیں تو کیا کریں
کہتا ہے بس جدا ہمیں، سارے شہر سے اِک وہ شخص
سارے ہی لوگ اب ہمیں پرکھیں نہیں تو کیا کریں
رگ رگ میں دوڑتا ہے جو، سانسوں میں جس کا وِرد ہے
جاں سے اسے عزیز تر، مانیں نہیں تو کیا کریں
زین شکیل