زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

قابلِ داد ہو گئے کیسے

قابلِ داد ہو گئے کیسے
تم بھی آباد ہو گئے کیسے
سوچتا ہوں تمہیں بھلا کر میں
تم مجھے یاد ہو گئے کیسے
آپ معصوم سی دعا بن کر
لب پہ آباد ہو گئے کیسے
ہم تو خاموش ہی رہے بر سوں
جانے برباد ہو گئے کیسے
دشت کی دھجیاں اڑی ہوں گی
شہر ایجاد ہو گئے کیسے
تم تو معصوم تھے محبت میں
اتنے استاد ہو گئے کیسے
جن سوالوں کو میں بھلا بیٹھا
آپ کو یاد ہو گئے کیسے
زین ہم نے تو سکھ بنائے تھے
درد ایجاد ہو گئے کیسے

زین شکیل