سارے موسم ہیں یہاں اب تو سزاؤں والے
جانے کس دیس گئے لوگ دعاؤں والے
جانے تم کس لیے مغرور ہوئے پھرتے ہو
تم نے دیکھے ہی نہیں لوگ اداؤں والے
ابر بھی ہو کے گریزاں ہی گزر جاتا ہے
پیڑ بھی جل ہی گئے شہر کے، چھاؤں والے
کون اب درد کی جلتی ہوئی لُو روکے گا
سارے آنچل ہی دریدہ ہیں، ہواؤں والے
زین شکیل
Saare mausam hain yahan ab to sazayon wale
Jaane kis des gaye log duayon wale
Jaane tum kis liye maghroor hue phirte ho
Tum ne dekhe hi nahin log adaon wale
Abr bhi ho ke gurezan hi guzar jata hai
Ped bhi jal hi gaye sheher ke, chhaon wale
Kaun ab dard ki jalti hui lu roke ga
Nahin saare aanchal hi dareeda hain, hawaon wale
زین شکیل 23 فروری 1992 کو جلالپور جٹاں، گجرات میں پیدا ہوئے۔ تعلیم اور پیشے کے اعتبار سے وہ سافٹ وئیر انجینیئر ہیں، لیکن ان کا دل ہمیشہ اردو اور پنجابی ادب کی طرف رہا۔ انہوں نے اپنی فنی اور ادبی دلچسپی کو عملی شکل دیتے ہوئے متعدد شعری مجموعے تخلیق کیے جو قاری کو گہرے جذبات اور احساسات سے روشناس کراتے ہیں۔ ان کے ابتدائی مجموعے "چلو اداسی کے پار ج...
مکمل تعارف پڑھیں