سارے موسم ہیں یہاں اب تو سزاؤں والے
جانے کس دیس گئے لوگ دعاؤں والے
جانے تم کس لیے مغرور ہوئے پھرتے ہو
تم نے دیکھے ہی نہیں لوگ اداؤں والے
ابر بھی ہو کے گریزاں ہی گزر جاتا ہے
پیڑ بھی جل ہی گئے شہر کے، چھاؤں والے
کون اب درد کی جلتی ہوئی لُو روکے گا
سارے آنچل ہی دریدہ ہیں، ہواؤں والے
زین شکیل