شام، دریا، ندی، کنارے، تم
مجھ کو لگتے ہو کتنے پیارے تم
اور اک ہم کہ بس تمہارے ہی
اور اک تم کہ بس ہمارے تم
کیوں مری آنکھ سن نہیں پائی
کیوں نہیں آنکھ سے پکارے تم
میں تمہیں بھول ہی نہیں پاتا
ہو گئے یاد مجھ کو سارے تم
کون سا آسمان تھا بولو
یوں کہاں سے گئے اتارے تم
مجھ کو یونہی حسین لگتے ہیں
چاندنی شب، اُداس تارے، تم
ہجر کا کون سا یہ عالم ہے
بس مجھے دے گئے خسارے تم
اب کہ رونا بھی فن میں شامل تھا
اس لئے رو پڑے بیچارے تم
زین شکیل