زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

سسک رہا تھا مِرا اک سوال، تُو چپ تھا

سسک رہا تھا مِرا اک سوال، تُو چپ تھا
رہا تھا دل میں یہی اک ملال، تُو چپ تھا
اداس کرتی گئیں وہ تری اداس آنکھیں
میں پوچھتا بھی رہا حال چال، تُو چپ تھا
میں جب بلند رہا تو بھی ہمکلام رہا
سو مجھ پہ آن پڑا جب زوال، تُو چپ تھا
جو تیرا ثانی مجھے مل گیا تو شکوہ کیوں؟
میں ڈھونڈتا تھا تری جب مثال، تُو چپ تھا
اب اپنے درد کا کیونکر ڈھنڈورا پیٹتا ہے؟
میں کر رہا تھا جو تب اندمال، تُو چپ تھا
مرا دریدہ بدن دیکھ کر نہ اب رونا
کہا تھا کر لے مری دیکھ بھال، تُو چپ تھا
مِرے بدن کے تجھے زخم اب ستاتے ہیں
میں دکھ کی اوڑھے ہوئے جب تھا شال، تُو چپ تھا
تجھے ہی شام و سحر کا حساب دیتے ہوئے
گزر گیا تھا مرا ایک سال، تُو چپ تھا
یہ تیرے اور مِرے ربط کے مٹانے کو
زمانہ چلتا رہا ایک چال، تُو چپ تھا

زین شکیل