تری نگاہ میں کیوں ابر آ ٹھہرتا ہے
یہ کس کے ہاتھ پہ رنگِ حنا ٹھہرتا ہے
میں جس کے واسطے ہر اہتمام کرتا ہوں
وہ شخص مجھ سے بڑی دور جا ٹھہرتا ہے
یہ پیڑ جھک کے اسے دیکھتے ہی رہتے ہیں
جب ان کی چھاؤں میں وہ دلربا ٹھہرتا ہے
یہ لوگ شہر کے جھک جھک کے مجھ سے ملتے ہیں
وہ شخص جب بھی مرے پاس آ ٹھہرتا ہے
زین شکیل
Teri nigah mein kyun abr aa theharta hai
Ye kis ke haath pe rang-e-hina theharta hai
Main jis ke waaste har ehtemaam karta hoon
Wo shakhs mujh se badi door ja theharta hai
Ye ped jhuk ke use dekhte hi rehte hain
Jab in ki chhaon mein wo dilruba theharta hai
Ye log shahar ke jhuk jhuk ke mujh se milte hain
Wo shakhs jab bhi mere paas aa theharta hai
زین شکیل 23 فروری 1992 کو جلالپور جٹاں، گجرات میں پیدا ہوئے۔ تعلیم اور پیشے کے اعتبار سے وہ سافٹ وئیر انجینیئر ہیں، لیکن ان کا دل ہمیشہ اردو اور پنجابی ادب کی طرف رہا۔ انہوں نے اپنی فنی اور ادبی دلچسپی کو عملی شکل دیتے ہوئے متعدد شعری مجموعے تخلیق کیے جو قاری کو گہرے جذبات اور احساسات سے روشناس کراتے ہیں۔ ان کے ابتدائی مجموعے "چلو اداسی کے پار ج...
مکمل تعارف پڑھیں