تمہیں دل سے مٹا دینے کا موسم تھا
سو کیا کرتے بھلا دینے کا موسم تھا
ہوا کے زور سے ڈرنا بھی کیا ڈرنا
دیا یوں بھی بجھا دینے کا موسم تھا
ہوائیں ماتمی ہونے لگیں کیونکر
ابھی تو مسکرا دینے کا موسم تھا
زباں تو چپ رہی آنکھیں نہ رہ پائیں
تمہیں سب سے چھپا دینے کا موسم تھا
اسی خاطر تمہیں ہم نے بُلایا ہے
انا کا در گرا دینے کا موسم تھا
مجھے ہی اُس نے افسانہ بنا ڈالا
کوئی قصہ سنا دینے کا موسم تھا
زین شکیل