زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

وہ بہت دور کھڑی تھی، جو تھی!

وہ بہت دور کھڑی تھی، جو تھی!
اتنی حیرت بھی بڑی تھی، جو تھی!
تھا وہ بے فیض کوئی در، جو تھا
اور وہ اُس پہ پڑی تھی، جو تھی!
خود سے مل کر یہ کھُلا ہے مجھ پر
تیرے ملنے کی گھڑی تھی، جو تھی!
کس طرح تجھ کو بتاؤں، تجھ بن
رات وہ کتنی بڑی تھی، جو تھی!
دیکھنے کو میں اسے آ یا تھا
وہ بھی بے چین کھڑی تھی، جو تھی!
اب تری زلف بھی یاد آتی ہے
بے وجہ مجھ سے لڑی تھی، جو تھی!

زین شکیل