وہ مانگتا ہے محبت کا اب صلہ مجھ سے
اسے رہا ہے سدا ہی کوئی گلہ مجھ سے
میں آج ٹوٹ کے رویا کسی کی یادوں پر
بہت خفا ہے مرا آج حوصلہ مجھ سے
کچھ اس لیے بھی مرے زخم اب نہیں بھرتے
کہ کٹ نہ جائے اذیت کا مرحلہ مجھ سے
میں ٹوٹ جاؤں اگر یاد تُو نہ آئے تو
سو ٹوٹتا نہیں یادوں کا سلسلہ مجھ سے
سدا رہوں میں اسی بدگمان کے، صدقے
کہ جس کو چاہئیے اظہار برملا مجھ سے
سو خود ہی مات کوئی ڈھونڈنے لگا ہوں میں
کہ لڑ پڑا ہے کسی غم کا قافلہ مجھ سے
زین شکیل