وہاں جھوٹوں پہ سب راضی تھے لیکن
یہاں پر ہم ہی للکارے گئے بس
تمہارا شہر سارا کیسے جیتا؟
زبردستی ہمی ہارے گئے بس؟
تجھے اے زندگی اب کیا بتائیں
ہمارے جان سے پیارے گئے بس
ابھی بس چاند کا دم ٹوٹنا ہے
ابھی تم دیکھنا تارے گئے بس
ہمیں منصور ٹھہرایا گیا ہے
ہمیں پتھر نہیں مارے گئے بس
بلائیں کس طرح تیری ٹلیں گی
ترے صدقے میں ہم وارے گئے بس
زین شکیل