وہ بہت دور کھڑی تھی، جو تھی!
اتنی حیرت بھی بڑی تھی، جو تھی!
تھا وہ بے فیض کوئی در، جو تھا
اور وہ اُس پہ پڑی تھی، جو تھی!
خود سے مل کر یہ کھُلا ہے مجھ پر
تیرے ملنے کی گھڑی تھی، جو تھی!
کس طرح تجھ کو بتاؤں، تجھ بن
رات وہ کتنی بڑی تھی، جو تھی!
دیکھنے کو میں اسے آ یا تھا
وہ بھی بے چین کھڑی تھی، جو تھی!
اب تری زلف بھی یاد آتی ہے
بے وجہ مجھ سے لڑی تھی، جو تھی!
زین شکیل
Woh bahut door khadi thi, jo thi!
Itni hairat bhi badi thi, jo thi!
Tha woh be-faiz koi dar, jo tha
Aur woh us pe padi thi, jo thi!
Khud se mil kar yeh khula hai mujh par
Tere milne ki ghadi thi, jo thi!
Kis tarah tujh ko bataun, tujh bin
Raat woh kitni badi thi, jo thi!
Dekhne ko main usay aaya tha
Woh bhi be-chain khadi thi, jo thi!
Ab teri zulf bhi yaad aati hai
Be-wajah mujh se ladi thi, jo thi!
زین شکیل 23 فروری 1992 کو جلالپور جٹاں، گجرات میں پیدا ہوئے۔ تعلیم اور پیشے کے اعتبار سے وہ سافٹ وئیر انجینیئر ہیں، لیکن ان کا دل ہمیشہ اردو اور پنجابی ادب کی طرف رہا۔ انہوں نے اپنی فنی اور ادبی دلچسپی کو عملی شکل دیتے ہوئے متعدد شعری مجموعے تخلیق کیے جو قاری کو گہرے جذبات اور احساسات سے روشناس کراتے ہیں۔ ان کے ابتدائی مجموعے "چلو اداسی کے پار ج...
مکمل تعارف پڑھیں