زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

یہی ملال مجھے بولنے نہیں دیتا

یہی ملال مجھے بولنے نہیں دیتا
تمہارا حال مجھے بولنے نہیں دیتا
بہت خوشی میں بہت ہی اداس رہتا ہوں
غموں کا کال مجھے بولنے نہیں دیتا
تمہاری یاد بہت چیختی ہے آ آ کر
کوئی خیال مجھے بولنے نہیں دیتا
وہ میرے حق میں بھی قفلِ زبان توڑے گا
یہ احتمال مجھے بولنے نہیں دیتا
مری نظر سے وہ ہر بات جان لیتا ہے
یہی کمال مجھے بولنے نہیں دیتا
میں بولتا تو قسم سے شہر میں چھا جاتا
کوئی وبال مجھے بولنے نہیں دیتا
وہ جب بھی پوچھتا ہے خواب کیوں سجاتے ہو
تو یہ سوال مجھے بولنے نہیں دیتا

زین شکیل