زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

آج تھوڑا سا مسکرانے دے

آج تھوڑا سا مسکرانے دے
میرے دل اس کو بھول جانے دے
تو بتائے گا عشق کا مطلب
جا یہاں سے ہوا کو آنے دے
مجھ کو چارہ گری سے غرض نہیں
چارہ گر زخم بس دکھانے دے
تم محبت نبھاؤ کب کہا یہ
عرض اتنی مجھے نبھانے دے
سخت لہجہ ہے عشق میں ممنوع
تو مجھے آنکھیں ہی دکھانے دے
تم محبت میں دھوکہ کھا رہے ہو
اچھا'چپ رہ مزے سے کھانے دے
وصل ایسا نصیب ہو'وہ کہے
یار بس کر دے یار جانے دے
آج دیکھا ہے شیخ کو قلزم
کہاں دیکھا یہ بات جانے دے

زبیر قلزم