زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

آپ اتنا تو اپنا خسارہ کریں

آپ اتنا تو اپنا خسارہ کریں
ہاں نبھا مت کریں بس گزارا کریں
ہم یقیں پھر سے کرتے ہیں پہلے بتا
کیسے پھر سے یقیں ہم تمہارا کریں
بے بسی ان جانی ہے کس نے بھلا
چپکے سے موت کو جو اشارہ کریں
اپنا پہلا تجربہ تو اچھا نہیں
سوچتے ہیں محبت دوبارہ کریں
سانحہ ہو بھی سکتا ہے چارہ گرو
گرتی دیوار ہوں مت سہارا کریں
تیری دنیا میں چہرے حسیں بے شمار
جان اک دی ہے کس کس پہ وارا کریں
چارہ گر اب بناتے ہیں وڈیوں یہاں
ڈوبنے والے کس کو پکارا کریں

زبیر قلزم