زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

آپ چاہیں تو کیا سے کیا کر دیں

آپ چاہیں تو کیا سے کیا کر دیں
مجھ نکمے کو سب عطا کر دیں
میری تقدیر کا جلا کے دیا
پھر نگہبان بھی ہوا کر دیں
روضے پر جاؤں یہ بساط کہاں
میرے سرکار معجزہ کر دیں
مسئلہ ہے کہ آپ سے ہوں دور
میرا حل یہ بھی مسئلہ کر دیں
مجھ کو اپنا غلام کہہ کر آپ
ساری دنیا کا بادشہ کر دیں
میں گزر جاؤں پل صراط سے بھی
میرے آقا جو آسرا کر دیں
ان غموں نے بہت ستایا مجھے
مجھ پہ نظر کرم زرا کر دیں

زبیر قلزم