زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

ان کی گرگٹ مثال دیتے ہیں

ان کی گرگٹ مثال دیتے ہیں
رنگ وہ اس طرح بدلتے ہیں
آگئے بھول کر فرشتوں میں
معذرت ہم جناب چلتے ہیں
شعر آسان تو نہیں کہنے
خون جلتا ہے تب نکلتے ہیں
ان پر مر کر تو ہم نے دیکھ لیا
اب کسی حادثے میں مرتے ہیں
آپ زلفیں ہی بس سنبھالا کریں
ہم کہاں آپ سے سنبھلتے ہیں
جو خدا کے قریب تر کر کردے
آؤ ایسا گناہ کرتے ہیں
ایسے رخصت ہوئے مرے احباب
جیسے پتے خزاں میں جھڑتے ہیں
یہ جھجھک کیسی اور وعدہ کریں
کب کہا آپ کیوں مکرتے ہیں
مجھ کو ڈسنے کا سوچتے ہیں وہ
جو مری آستیں میں پلتے ہیں

زبیر قلزم