زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

اور کچھ بھی ہو یوں ہوا نہ ہو

اور کچھ بھی ہو یوں ہوا نہ ہو
ہاں ابھی اس کا دل بھرا نہ ہو
ہم بجھے ہیں ابھی ہوا نہ دو
کوئی شعلہ کہیں دبا نہ ہو
چھوڑ کہ جانا ہے تو ایسے جا
زندگی بھر ہمیں گلہ نہ ہو
اب کہ تجدید ہو بشر کی اور
جسم میں دل کی پھر جگہ نہ ہو
بے دلی اس قدر نہ بڑھ کہ ہم
لب ہلائیں مگر دعا نہ ہو
ہم تو ایسے ہیں بخت مارے کے
جن کو غم کا بھی آسرا نہ ہو
زندگی یوں بسر ہوئی اپنی
جیسے اپنا کوئی خدا نہ ہو
کھا گئے ہو جوانی میری تم
عشق تیرا کبھی بھلا نہ ہو

زبیر قلزم