اپنے جنگل کا حال بدلا ہے
کہ شکاری نے جال بدلا ہے
سال بھر رنگ جو بدلتے رہے
کہہ رہے ہیں کہ سال بدلا ہے
زبیر قلزم
Apne jangal ka haal badla hai
Ke shikari ne jaal badla hai
Saal bhar rang jo badalte rahe
Keh rahe hain ke saal badla hai
آج آپ کو بے تکلفات کا اظہار کرنے والے ناتواں لیکن تمام دنیا سے لڑ جانے والے سرکش عاشق'فلسفہ پہ گہری نظر رکھنے والے اور خودار شاعر سے متعارف کرواتے ہیں۔ آپ کی شاعری موضوع انسانی کے جزبات اور نفسیاتی کیفیات کو احساس کی شدت کے ساتھ قاری تک منتقل کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہے۔ آپ 6 اکتوبر 1986 کو گوجرانوالہ کینٹ میں پیدا ہوئے۔ آپ کو چھوٹی بحر پر ملک...
مکمل تعارف پڑھیں