اس لئے ذکر غم کیا ہی نہیں
آدمی آدمی رہا ہی نہیں
آ مجھے پھر سے چھوڑ کر تو جا
تیرے اب ہجر میں مزہ ہی نہیں
ہجر ہو، مفلسی ہو ، کہ ہو دغا
کوئی غم خیر سے بچا ہی نہیں
دشمن جان پیار سے جاں مانگ
ایسے تو میں کبھی دبا ہی نہیں
آگ ایسی لگائی مرنے تک
دل یہ جلتا رہا بجھا ہی نہیں
آس کیا رکھتا اچھے وقت کی میں
کہ برا وقت تو ٹلا ہی نہیں
جھریاں یا سفید بال دکھے
آئینے میں میں تو دکھا ہی نہیں
ایک اک کونہ گھر کا دیکھ لیا
پر میں خود کو کہیں ملا ہی نہیں
وہ تھا ماہر بچھڑنے میں قلزم
بے وفا وہ مجھے لگا ہی نہیں
زبیر قلزم