زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

اس قدر پیار سے وہ کھلاتے رہے

اس قدر پیار سے وہ کھلاتے رہے
یہ لگا ہی نہیں دھوکہ کھاتے رہے
یہ بھی سچ ہے کسی سے محبت نہ تھی
یہ بھی سچ ہے سبھی سے نبھاتے رہے
ان کو پوچھے خدا ان کا نہ ہو بھلا
جو محبت کو نعمت بتاتے رہے
ان کے ہاتھوں میں شاید شفا ہی نہ تھی
ہم جہنیں زخم اپنے دکھاتے رہے
ہم نے تا عمر خوش جس خدا کو کیا
اس خدا کے ہی بندے رلاتے رہے
ذکر چھیڑا کسی نے وفاؤں کا جب
وہ نہ بولے مگر منہ چھپاتے رہے
عشق والوں کا دل نہ لگا پھر کہیں
حسن والے تو دل کو لگاتے رہے
لوگوں نے روح تک کو دیا ہے فریب
عشق کہہ کر ہوس کو مٹاتے رہے

زبیر قلزم