زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

عشق پھرتا ہے خوشی اپنی چھپانے کے لیے

عشق پھرتا ہے خوشی اپنی چھپانے کے لیے
حسن خود بے تاب ہے جلوہ دکھانے کے لیے
اس محبت کا سبھی کو پہلے آتا ہے مزہ
پھر جگہ ملتی نہیں آنسو بہانے کے لیے
اک غمِ دوراں نے جی میرا جلایا ہے بہت
ایک اس کی یاد میرا دل جلانے کے لیے
بعد میرے بھیجنا کوئی مرے جیسا بشر
اس جہاں میں کارِ الفت کو چلانے کے لیے
اب محبت سے نہیں میں دیکھتا اس کو جناب
دیکھتا ہوں ضبط اپنا آزمانے کے لیے
موت نعمت ہو جہاں پر بھوک رقصاں ہو جہاں
بے حسی ہے شرط پہلی مسکرانے کے لیے
لوگ جانے کیسے دنیا سے لگا لیتے ہیں دل
جب کہ ہم آئے ہیں قلزؔم لوٹ جانے کے لیے

زبیر قلزم